#بلوچ یکجہتی
Explore tagged Tumblr posts
googlynewstv · 5 days ago
Text
بلوچستان میں ریاست اور بلوچ یکجہتی کونسل آمنے سامنے کیوں؟
بلوچ لبریشن آرمی کے ہاتھوں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور مسافروں کے قتل عام کے بعد سے ہونے والی جوابی کارروائیوں نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال مزید تشویش ناک کر دی ہے جس کی بنیادی وجہ ماہ رنگ بلوچ کی زیر قیادت بلوچستان یکجہتی کونسل کیجانب سے کی جانے والی مزاحمت اور احتجاج ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے درجنوں معصوم ٹرین مسافروں کے قتل عام کی مذمت کرنے کی بجائے مسنگ پرسنز کا مسئلہ…
0 notes
urduchronicle · 1 year ago
Text
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دھرنے پر بیٹھی بلوچ فیملیز کو ہٹانے سے روک دیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر دھرنے پر بیٹھی بلوچ فیملیز کو ہٹانے سے روک دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ بلوچ مظاہرین کو ہراساں نہ کیا جائے، دورانِ سماعت پٹیشنر کی جانب سے وکیل عطاء اللّٰہ کنڈی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اسپیکر اٹھا لیے جاتے ہیں، رات کو تنگ کیا جاتا ہے، دوبارہ آپریشن شروع ہونے کا خدشہ ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے…
Tumblr media
View On WordPress
0 notes
dr-jan-baloch · 3 days ago
Text
“تونسہ شریف احتجاجی مظاہرہ”
بلوچوں کو تقسیم کرنے کی بھیانک پالیسوں کو روندتے ہوئے کل بلوچ یکجہتی کمیٹی تونسہ زون کی جانب سے ہونیوالے پرامن احتجاجی ریلی میں بھرپور شرکت کرکے ریاستی ظلم و جبر کے خلاف اپنی آوازبلند کریں۔
جگہ : ہاشمی چوک تا کلمہ چوک
دن: جمعرات 27 مارچ
وقت: دوپہر 2بجے
0 notes
aomarkarimbaloch · 2 months ago
Text
باندا 16جنوری ءَ #تمپ ءَ سہب ہِ ساہت 10:30 یک روانکے کشگ بیت۔
دروت دراہ باتے انچو کہ شما سرپد ئے بلوچ  نسل کشی ِ ھلاپ ءَ برجاہیں بلوچ یکجہتی کمیٹی ءِ زارشانی ہَ مروچی پنجاہ ہُ سئے روچ سرجم بوتگ،   باندا 16جنوری  ءَ #تمپ ءَ سہب ہِ ساہت 10:30 یک روانکے کشگ بیت۔ تحصیل تمپ ہِ سرجمیں لس مھلوک چہ دستبدی انت، روانک ہَ بھر بزور انت ءُ وتی راجی کردءَ پہلو بہ کن انت۔  #IStandWithBalochMarch…
0 notes
topurdunews · 5 months ago
Text
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ڈاکٹر مارنگ بلوچ کی ای سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست
(احتشام کیانی) اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ڈاکٹر مارنگ بلوچ کی ای سی ایل سے نام نکلوانے کی درخواست دائر کی ہے۔  چیف جسٹس عامر فاروق کل ڈاکٹر مارنگ بلوچ کی درخواست پر سماعت کریں گے ،ڈاکٹر مارنگ بلوچ نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ذریعے درخواست دائر کر رکھی ہے،واضح رہے کہ ڈاکٹر مارنگ بلوچ کراچی ائیرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا تھا۔  یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم…
0 notes
urduclassic · 5 years ago
Text
پاکستان میں اہلِ قلم اور اہلِ صحافت کی سخت آزمائش
پاکستان اِس اعتبار سے بہت سخت جان ہے کہ وہ سقوطِ ڈھاکہ اور دہشت گردی کے معرکۂ ہائے کرب و بلا سے بھی جانبر ہو گیا ہے۔ ماضی میں ریاست بحرانوں کا حل تلاش کرنے میں سرگرداں رہتی جبکہ اب حکمران عام آدمی کو مسائل کی بھٹی میں جلتے دیکھ کر اپنی نظر دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ دکھ یہ بھی ہے کہ اُن کی ترجیحات درست ہیں نہ اُن میں اصلاحِ احوال کی زبردست تڑپ پائی جاتی ہے۔ بس اُن کی طرف سے الفاظ کا دریا بہتا رہتا ہے جس میں ہر آن طغیانی کا سماں رہتا ہے۔ عمرانی ماہرین کا اِس امر پر اتفاق ہے کہ انسانی معاشرے میں علمی اور اَخلاقی توانائی پیدا کرنے اور اِس کے اندر نئی نئی منزلوں کا سراغ لگانے کی روح پھونکنے میں ادیب، شاعر، کالم نگار اور صحافی مرکزی کردار ادا کرتے اور اہلِ نظر افکارِ تازہ سے نئی نئی بستیاں آباد کرتے جاتے ہیں۔ اِسی بنا پر مہذب قومیں اپنے دانش وروں، ادیبوں، فن کاروں، شاعروں اور صحافیوں کو غیرمعمولی قدر کی نگاہ سے دیکھتی اور اُنہیں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کا اہتمام کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں حکمرانوں کی جانب سے اہلِ قلم سے ہر درجہ غیرپسندیدہ سلوک روا رکھا گیا۔ پہلی بار جنرل ایوب خان کو رائٹرز گلڈ بنانے کا خیال آیا جس کے اصل محرک جناب قدرت اللہ شہاب تھے۔ یہ ایک اچھا خیال تھا لیکن اِس سے تاثر یہ قائم ہوا کہ اہلِ قلم کو اہلِ اقتدار کا فرمانبردار بنانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے، تاہم اُس زمانے میں اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے اچھے مناظر دیکھنے میں آئے اور اچھی کتابوں پر انعامات دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ’آدم جی ایوارڈ‘ کا بڑا شہرہ ہوا۔ نیشنل بینک کے سربراہ جناب ممتاز حسن نے بھی اہلِ قلم اور ادبی کاوشوں کی بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی کی۔ بعد ازاں یہ ماحول تبدیل ہوتا گیا اور ہمیں سیاسی افراتفری نے آ لیا۔ پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو برسرِ اقتدار آئے۔ وہ ’لفظ‘ کی طاقت کا ادراک رکھتے تھے چنانچہ اُنہوں نے 1976 میں فرانسیسی اکیڈمی آف لیٹرز کی طرز پر ’اکادمی ادبیات‘ قائم کی۔ اِس کے بنیادی اغراض و مقاصد میں اہلِ قلم کی قدراَفزائی، پاکستانی لٹریچر کی تدوین اور معیاری کتابوں کی اشاعت کے لیے معقول انتظامات شامل تھے۔
جنرل ضیاء الحق کے عہد میں اکادمی ادبیات میں بڑی وسعت پیدا ہوئی۔ اِس کا سہرا بریگیڈیئر صدیق سالک کے سر جاتا ہے جو جنرل صاحب کے بہت قریب تھے اور ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ اُن کی تصنیف ’ہمہ یاراں دوزخ‘ مزاح کا ایک اچھا شاہکار ہے۔ اُن کے مشورے پر جنرل ضیاء الحق نے اُردو کے مایہ ناز اَدیب جناب شفیق الرحمٰن کو اکیڈمی ادبیات کا چیئرمین مقرر کیا۔ اُن کے بعد سندھی، بلوچ اور پشتو زبان کے بلند پایہ ادیب بھی اِس کے سربراہ مقرر ہوئے۔ اِس دور میں اہلِ قلم کانفرنس منعقد کرنے کی طرح ڈالی گئی جو کئی عشروں تک قائم رہی۔ مستحق ادیبوں کو ماہانہ وظیفہ دینے کا ایک نظام قائم ہوا۔ کم وسائل کے حامل اور بیماری سے نڈھال اہلِ قلم اور اُن کی بیواؤں کو ماہانہ تیرہ ہزار رُوپے ادا کیے جاتے رہے لیکن انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت سے اب یہ وظائف بند ہو گئے ہیں۔ اِسی طرح اکیڈمی کے ریٹائرڈ اہل کار اپنی پنشن سے محروم چلے آ رہے تھے۔ اِس بندش سے دو اَدیب موت سے ہمکنار ہو گئے۔
اب وفاقی محتسب کے حکم پر چند روز پہلے پنشن کی رقم ادا کر دی گئی ہے۔ اکیڈمی اِس حال تک اِس لیے پہنچی ہے کہ ایک مدت سے اِسے کوئی بلند نگاہ سربراہ دستیاب نہیں ہوا۔ وفاقی وزارتِ تعلیم کے ڈپٹی سیکرٹری یا جوائنٹ سیکرٹری اِس عظیم تنظیم کے معاملات بےڈھنگے پن سے چلا رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اِس وزارت کے تحت اِس نوع کے چودہ اِدارے قائم ہیں جو ڈیڑھ دو سال سے سربراہوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ اِس میں مقتدرہ قومی زبان (جس کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے)، اُردو سائنس بورڈ، اقبال اکیڈمی، اُردو لغت بورڈ اور نیشنل بک فاؤنڈیشن شامل ہیں۔ سالہا سال سے اہلِ قلم کانفرنس منعقد ہی نہیں ہوئی جو قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی رہی۔ اِس کے علاوہ اکیڈمی ادبیات کی رکنیت کا بھی کوئی نظام سرے سے موجود نہیں۔
جب سے عمران خان اقتدار میں آئے ہیں، وہ میڈیا کے خلاف اپنے افکارِ عالیہ کا اظہار کرتے رہتے ہیں جس کے باعث اَخبارات اور ٹی وی چینلز کے وسائل میں بہت کمی آ گئی ہے۔ حکومت کی میڈیا مخالف پالیسی کے نتیجے میں ہزاروں صحافی روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ روزگار کے دروازے بند ہونے سے متعدد صحافی اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں اور کچھ شدتِ غم سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اِس کے علاوہ نڈر اور صداقت شعار صحافیوں پر قاتلانہ حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ہمارے ہاں 33 صحافی لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور آج تک پولیس اُن کے قاتلوں کا سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ حال ہی میں جواں ہمت صحافی عزیز میمن کے بہیمانہ قتل نے پوری قوم کو ایک سوزِ نہاں سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ خوف غالب آتا جا رہا ہے کہ قوم فکری، اخلاقی توانائی اور آوازِ صداقت سے یکسر محروم نہ ہو جائے۔ یہ حالات اربابِ اختیار سے گہرے غور و فکر اور فوری اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ علم، تخلیق اور جستجو سے بےتعلقی اور لاپروائی اکثر اوقات صحت مند جذبوں اور بلند حوصلوں کیلئے موت کا پیغام ثابت ہوتی ہے۔
الطاف حسن قریشی
بشکریہ روزنامہ جنگ  
1 note · View note
pakistan-news · 3 years ago
Text
جو اشرافیہ جانتی ہے بس وہی جانتی ہے
لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارے ہر چھوٹے بڑے ’’ ہو از ہو‘‘ کو بلوچستان کے دو سے زائد شہروں کے نام بھلے ماتھے پر ہاتھ مار مار کے یاد کرنا پڑیں البتہ اسلام آباد میں متعین ہوئے اور ہونے والے امریکی سفیرکا برتھ ڈے اور وائٹ ہاؤس کے کمروں کی گنتی تک ازبر رہتی ہے۔ مگر ایک عام امریکی شہری زیادہ سے زیادہ اپنے شہر، اپنی ریاست اور بہت ہی تیر مارا تو کینیڈا، میکسیکو اور اسرائیل کے نام سے واقف ہے۔ باقی دنیا میں کون کیا کیوں ہے ؟ اس کی بلا سے۔ اسے تو شاید یہ بھی ٹھیک سے نہیں معلوم ہوتا کہ ہمسائے میں جو شخص برسوں سے تنہا رہ رہا ہے اس کے گھر میں کتنی مشین گنیں ہیں اور ان سے وہ کیا اور کب کرے گا۔ خود پر استعمال کرے گا یا کسی کالے محلے میں گھس جائے گا یا اسکول کی دیوار کود کے ہر سامنے آنے والے کو نشانے پر رکھ لے گا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس عمومی امریکی بیگانگی پر اتنا بل کھانے کی کیا بات ہے۔ بھلا سپرپاور کے کسی شہری کو کیا ضرورت کہ وہ جاننے کی کوشش کرے کہ ہر چپٹا چینی نہیں ہوتا۔ پاناما کسی نہر کا نہیں بلکہ ملک کا نام ہے۔ 
ہنڈوراس میں صرف کیلے نہیں انسان بھی ہوتے ہیں۔ بھارت اور انڈیا ایک ہی چیز ہے۔ ایران میں ایرانی نہیں فارسی بولی جاتی ہے۔ اس قسم کی معلومات صاحبوں کی نہیں محکوم طبیعت ضرورت مند ممالک کی متوسط و اشرافی کلاس کی ضرورت ہیں تاکہ وہ صاحبوں کی پسند ناپسند، رنگوں ، مزاج ، مشاغل ، رشتے داریوں اور نجی و غیر نجی مصروفیات کا رضاکارانہ ریکارڈ سینہ پھلا کر ایک دوسرے کو بتاتا دکھاتا پھرے۔ کیا کسی چوہدری سے کبھی کسی مراثی کا شجرہ سنا ؟ بعض حاسد نو آبادیاتی ماضی میں گندھی سویلین و غیر سویلین دیسی اشرافیہ کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں کہ اس کا اندازِ بیگانگی امریکیوں جیسا ہے۔ عام پاکستانی شہری تو رہا ایک طرف کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن بھی جب ملتے ہیں تو اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں تو یہ تک یاد رکھنا پڑتا ہے کہ آج مولانا صاحب نے کون سا عطر لگایا ہے، میاں صاحب نے آج کس رنگ کی ٹائی کس کے لیے پہنی۔ خان صاحب کو ان دنوں کون سا مارملیڈ پسند ہے اور جنرل گوجر کتنی نسلوں سے سپاہ گر ہیں۔
مگر آؤڈی سے ہمر اور محل سے مرمریں ایوانوں تک محدود قومی قسمت کے برہمنی مزاج فیصلہ سازوں اور کاسہ لیسوں اور آل اولادوں کو بالکل ضرورت نہیں کہ وہ بلوچ اور بلوچی، تھر اور تھر پارکر، مالاکنڈ اور سوات ، بابا فرید اور خواجہ فرید میں فرق کرتا پھرے۔ اس کی بلا سے سنانگھڑ سندھ میں ہے یا بلوچستان میں یا پھر یہ مچھلی کی کوئی قسم ہے۔ کیا ایک اشرافی بچے کے لیے اتنا جاننا کافی نہیں کہ سوئی گیس بلوچستان یا اندرونِ سندھ کے کسی علاقے سے آتی ہے اور ختم بھی ہو گئی تو ایران اور ترکمانستان اور قطر سے اور ’’ سوئی گیس‘‘ آجائے گی۔ کیا اتنی معلومات کافی نہیں کہ باڑہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سستا اسمگل شدہ سامان ملتا ہے یا پھر یہ دہشت گردوں کی گذرگاہ ہے۔ مگر میں ایک چھوٹے قصبے کا پیدائشی نیم پنجابی و نیم سرائیکی و نیم فلاں ابنِ فلاں ہونے کے ناتے اس اشرافی تجاہل ِ عارفانہ عرف بیگانگی سے متعلق حاسدوں کی جلی کٹی ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے نکال دیتا ہوں۔
کیونکہ جانتا ہوں کہ جس طرح پسماندہ اقوام امریکا کی فراست، ترقی اور طاقت سے جلتی ہیں اسی طرح بچارے چھوٹے لوگوں کی میری قومی اشرافیہ کے بارے میں سوچ بھی چھوٹی رہے گی۔ جنھیں آزادی سے قبل اور فوراً بعد کی شاندار اشرافی خدمات کے بارے میں نہیں معلوم ان بے چاروں کو یہ سوچ کر معاف کردینا چاہیے کہ یہ بے چارے معاف کرنے کے ہی قابل ہیں۔ ان میں سے کوئی نہیں جاننا چاہتا کہ ہماری اشرافیہ کا دل اس ملک کے رقبے اور آبادی سے بھی بڑا ہے۔ اس نے قومی یکجہتی کی خاطر اپنی ماں بولیوں کے فروغ پر توجہ نہ دینے کی قربانی دیتے ہوئے انگریزی اور انگریزی کی سوتیلی بہن اردو کو ترجیح دی تاکہ نادانوں کے اژدھام عرف عوام کو اپنی بات سمجھانے کے باوجود نہ سمجھانے میں آسانی رہے۔ حالانکہ پنجاب کا عام پنجابی، سرائیکی و پوٹھوہاری بھی اشرافیہ کے ہاتھوں اتنا ہی دوبھر ہے جتنا کسی اور صوبے کا رہواسی۔ مگر توپوں کا رخ اشرافیہ کی جانب سے پورے پنجاب کی طرف کروایا جاتا ہے تاکہ جسے بھی غصہ آئے وہ محلوں، رقبوں، بینک بیلنسوں، دہرے پاسپورٹیوں اور آف شور اکاؤنٹنٹیوں اور ہر صوبے کے طاقتوروں کی ایک دوسرے سے نجی و سیاسی رشتہ داریوں اور کاروباری شراکتوں اور مشترکہ بندربانٹ کے بارے میں کوئی سوال پوچھنے کے بجائے بس ایک ہی ہدف کو نشانہ بنائے کہ یہ سب کچھ پنجاب کا کیا دھرا ہے۔
یوپی بھی ہے سی پی بھی ہے ، ہیں اور بہت صوبے اک صوبہِ پنجاب ہے معلوم نہیں کیوں ( جون ایلیا )
نتیجہ یہ ہے کہ پنجابی اشرافی تو ہاتھ آنے سے رہا لہٰذا غلام کا غصہ غلام پر ہی نکل جاتا ہے۔ جب کہ اشرافیہ کو ایسا کوئی احساسِ کمتری نہیں اسی لیے جیونی سے سکردو تک سارا جہاں ہمارا۔ اشرافیہ کے بھی مفاد میں ہے کہ جب ہر ہما شما غلط ٹارگٹ کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے تو پھر اسے کیا پڑی کہ اپنی صفائیاں پیش کرنے کی پابند ہو اور ہر چھوٹے بڑے معاملے میں حصہ داری یا دخل در معقولات کی وضاحت کرتی پھرے۔ اشرافیہ کو اگر ضرورت ہے تو بس گودی میڈیا کی جو اس بیانیے کی تصویر مسلسل دکھاتا رہے کہ ’’ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم اس مسائل زدہ زمین کے کوڑھ مغزوں کے ساتھ سر کھپائیں جب کہ ہم دنیا میں کہیں بھی اپنی پسند کی جگہ اور ماحول میں رہ سکتے ہیں۔ مگر ہم اپنے نادان بھائیوں کی ترقی کے لیے نہ صرف افسروں ، ماہرین و مشیران اور علما کی شکل میں علم و ہنر بانٹتے ہیں بلکہ برادرانِ یوسف کو عملاً کر کے دکھاتے ہیں کہ ڈیم اور موٹر وے ایسے بنتے ہیں، کانکنی یوں ہوتی ہے، بندرگاہیں اس طریقے سے چلتی ہیں۔ لا اینڈ آرڈر ایسے برقرار رکھا جاتا ہے۔
صحرائی ، بنجر اور پہاڑی زمینیں ایسے الاٹ ہو کے شاد آباد ہوتی ہیں، پاکستانیت کے اظہار کے موثر طریقے یہ یہ یہ ہیں۔غداری کی سند کی ایکسپائری ڈیٹ کیسے پڑھی جاتی ہے، اچھے اور برے ملک دشمنوں میں کیسے تمیز کی جائے اور پھر ان سے کیسے کیسے نمٹا جائے۔ پر افسوس صد افسوس کہ اشرافِ کے اخلاصِ اور بے لوث سنہری خدمات کی قدر کرنے والا کوئی نہیں۔ چنانچہ باپ کی عدم موجودگی میں پھر یہ بڑے بھائی کی ذمے داری بن جاتی ہے کہ ایسے کور چشم چھوٹوں کو عقل کا جلاب دیتا رہے۔ اس تنگ نظر ہجوم کی تو طوطے کی طرح ایک ہی رٹ ہے کہ اشرافیہ کو ہمارے لیے بس وہی بہتر لگتا ہے جو وہ ہمارے لیے بہتر سمجھتی ہے۔  اوپر سے یہ جلن کہ دیگر طبقات میں اس قدر غلط فہمی اور مزاج میں دھماکا خیزی ہے تو اشرافیہ کیسے محفوظ ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جب مشرق ِ وسطی اور یوکرین جل رہا ہے تو امریکا ایک اور نائن الیون سے کیسے بچا ہوا ہے۔ مگر ان بیوقوفوں کو یہ سامنے کی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جس طرح امریکا نے دنیا میں جگہ جگہ اپنے اہل کار فائر بریگیڈ کے طور پر بھیج رکھے ہیں اسی طرح اشرافیہ بھی اپنے فرائض سے ایک لمحے کے لیے غافل نہیں۔
حتی کہ کسی نے سادہ لوح بلوچوں کو بھی پٹی پڑھا دی کہ یہ وہ نجیب الطرفین پنجابی خانوادے نہیں جنہوں نے پانچ سو سال پہلے تمہارے چاکرِ اعظم کے لیے بازو کھول دیے تھے۔ وہ دیوانے اور تھے جو چالیس سال پہلے تمہاری محبت میں تمہارے ساتھ ہی پہاڑوں پر چڑھ گئے تھے۔ پھر وہ بھی عقل کے ہتھے چڑھ گئے۔ اب تو کوئی ملک غلام جیلانی بھی نہیں جو تمہارے لیے مال روڈ پر پلے کارڈ اٹھائے تنہا کھڑا رہے۔ مدت ہوئی اس زمین کو بے فیض و جالب ہوئے۔ اور کوئی احمد فراز بھی تو نہیں بچا۔ بس نشیب ہی نشیب ہے۔ مگر سادگی کو سلام ہے کہ اتنا کچھ گذرنے کے بعد بھی اسی آئین اور اسی جمہوریت اور اسی عدلیہ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں جنھیں خود ان دنوں اپنے ہونے کا جواز ڈھونڈنے کے لالے پڑے ہیں۔ یہ نری بکواس سننے کے بعد بھی یہ ہماری اشرافیہ کا بڑا پن ہی تو ہے کہ ہر بار ایسے زبان درازوں پر ترس کھا کے ہنس پڑتی ہے۔ کیونکہ جو وہ جانتی ہے وہ ہم اکیس کروڑ اسی لاکھ پگلے نہیں جانتے۔
وسعت اللہ خان  
بشکریہ ایکسپریس نیوز
0 notes
swstarone · 4 years ago
Text
سندھ ادبی میلے میں بلوچستان پر سیشن منسوخ: ’یہ ثابت کرتا ہے ہمیں اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں ہے‘
سندھ ادبی میلے میں بلوچستان پر سیشن منسوخ: ’یہ ثابت کرتا ہے ہمیں اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں ہے‘
ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی 8 منٹ قبل کراچی میں جاری سندھ ادبی میلے کے تیسرے روز بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کے لیے مجوزہ پروگرام کو منسوخ کر کے آڈیٹوریم کو بند کر دیا گیا۔ اس سیشن کے شرکا میں بلوچستان کے صوبائی وزیر ظہور بلیدی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ، سینئر سیاست دان اور بلوچ یکجہتی کاؤنسل کے رہنما یوسف مستی خان، بلوچ دانشور و ادیب ڈاکٹر شاہ محمد مری اور طلبا رہنما…
Tumblr media
View On WordPress
0 notes
pakistan24 · 4 years ago
Text
ڈی چوک میں بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا احتجاج
ڈی چوک میں بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا احتجاج
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی چوک میں پارلیمنٹ کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے منگل کو احتجاج کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور کیمپ میں زمین پر بیٹھے رہے۔ ڈی چوک اسلام آباد میں لاپتہ بلوچوں کے اہلخانہ کے دھرنے میں 5 سال سے لاپتہ جہانزیب محمد حسنی کی والدہ بے ہوش ہو گئی جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
Tumblr media
View On WordPress
0 notes
googlynewstv · 7 months ago
Text
حکومت خود بلوچوں کو عسکریت پسندی کی جانب دھکیلنے لگی
گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے کے بعد بلوچستان حکومت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت تین ہزار سے زائد افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا یے جن میں طلبہ رہنما، سماجی کارکن اور صحافی شامل ہیں۔ دوسری جانب متائثرہ افراف کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دہشتگردی کا سنگین اور جھوٹا الزامات لگا کر جعلی بیانیے کے تحت انہیں فورتھ شیڈول میں شامل کرنے سے بلوچستان میں پرامن سیاسی و جمہوری جدوجہد کا…
0 notes
urduchronicle · 1 year ago
Text
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کل ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دے دی
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے منگل کے روز جنوب مغربی پاکستان میں بلوچ قوم کی مبینہ حقوق کی خلاف ورزیوں اور “نسل کشی” کے خلاف 3 جنوری کو پورے پاکستان میں “شٹر ڈاؤن مظاہرے” کی کال دی ہے۔ گزشتہ ماہ سینکڑوں بلوچ کارکن بلوچستان کے ضلع تربت سے 1,600 کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اسلام آباد پہنچے تھے تاکہ وہ اس کے خلاف احتجاج کریں جسے وہ “جبری گمشدگی” اور بے گناہ بلوچوں کی “نسل کشی” کہتے ہیں۔ بلوچستان کے…
Tumblr media
View On WordPress
0 notes
dr-jan-baloch · 5 days ago
Text
مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں کوئٹہ دھرنا پر قابض پنجابی ریاستی دہشتگرد فورسز کے جبر و تشدد اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ ،بیبو بلوچ اور دیگر ساتھیوں کی گرفتاری خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی. جس میں کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کی.
#ReleaseAllBalochMissingPersons
#StopBalochGenocide
#OccupiedBalochistan
#BalochistanIsNotPakistan
#PakistanQuitBalochistan
#pakistanaterroristcountry
#UnitedBalochistan
0 notes
aomarkarimbaloch · 2 months ago
Text
بلوچ یکجہتی کمیٹی ءِنیمگ ءَ تربت ءَ بلوچ ءَ زھرشانی کنگ بُوتگ #بلوچستان BalochistanProtestOnEid#
PROTECTED BY DMCA.com https://www.dmca.com/r/e8z9rw1
0 notes
informationtv · 4 years ago
Text
کریمہ بلوچ کی ہلاکت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئٹہ میں احتجاج - BBC News اردو
کریمہ بلوچ کی ہلاکت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کوئٹہ میں احتجاج – BBC News اردو
ایک گھنٹہ قبل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہائی کورٹ کے باہر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سیاسی رہنما کریمہ بلوچ کی ہلاکت اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں شریک خواتین اور بچوں سمیت دیگر افراد نے نہ صرف ہائی کورٹ کے باہر انسانی زنجیر بنائی بلکہ شرکا میں سے بعض نے اپنی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھنے کے علاوہ ہاتھوں کو زنجیروں سے بھی باندھ رکھا تھا۔ بلوچستان…
Tumblr media
View On WordPress
0 notes
classyfoxdestiny · 4 years ago
Text
جہانگیر ترین نے پارٹی کے حوالے سے بڑا بیان داغ دیا
جہانگیر ترین نے پارٹی کے حوالے سے بڑا بیان داغ دیا
لودھراں : تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ جو حالات پیدا کر دیے گئے ان پر بہت دکھ ہے۔ میں نے نیک نیتی سے پی ٹی آئی کی خدمت کی۔
 لودھراں میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ عدالتی پیشیوں پر اظہار یکجہتی کرنے والے کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کارکنوں نے میرا حوصلہ بڑھایا جس پر بے حد مشکور ہوں۔
 جہانگیر ترین نے کہا کہ مجھ پر بڑی آزمائش تھی جو حلقے سے دوری کا باعث بنی۔ میں نے 10 سال تک ان تھک جدوجہد کی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو مجھ سے جو امیدیں ہیں ان پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرونگا۔ حلقہ کے عوام کے ساتھ وفا کرونگا۔  مجھ پر بڑی آزمائش تھی جو حلقہ سے دوری کا باعث بنی۔  اصل سرخ��و میں عوام کی عدالت میں ہوا۔
اس موقع پر زوار وڑائچ نے کہا کہ ایم پی اے شپ اور وزارت جہانگیر ترین کی وجہ سے ملی، جہانگیر ترین حکم کریں، آج ہی استعفیٰ دے دوں گا۔  ایم پی اے نذیر بلوچ  نے کہا کہ آج بھی جہانگیر ترین کے ساتھ ہیں، کل بھی ہوں گے۔
Source link
0 notes
swstarone · 4 years ago
Text
پنجاب بھر میں بلوچ کلچر ڈے کو شایان شان طریقے سے منانے کا فیصلہ - Pakistan
پنجاب بھر میں بلوچ کلچر ڈے کو شایان شان طریقے سے منانے کا فیصلہ – Pakistan
لاہور:پنجاب بھر میں بلوچ کلچر ڈے کو شایان شان طریقے سے منانے کا فیصلہ کرلیا گیا،2 مارچ کو تقریبات کا انعقاد ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے قومی یکجہتی کوفروغ دینےکیلئےاحسن اقدام کرتے ہوئے لاہور سمیت پنجاب بھر میں 2مارچ کو بلوچ کلچر ڈے شایان شان طریقے سے منانے کا فیصلہ کرلیا۔ صوبے کے اضلاع میں بلوچ کلچر ڈے پر ثقافتی شوز اور کلچرل تقریبات منعقد ہوں گی جن میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے فنکار…
Tumblr media
View On WordPress
0 notes