#طبیب پیڈیا
Explore tagged Tumblr posts
Text
Tabeebpedia website has been launched!
Tabeebpedia website has been launched! Great news for everyone: the Tabeebpedia website has been launched! Tabeebpedia is set to become a comprehensive directory for herbal remedies, Hakeem, clinics, and herbal stores. The website provides detailed introductions to herbs, combining ancient traditional medicine with modern scientific research. Currently, there is no Urdu book that introduces herbs…
0 notes
Text
الرازی کا شاہکار 'الحاوی' : ایک عظیم طبی انسائیکلو پیڈیا
ابوبکر محمد ابن زکریا الرازی 864ء میں ایران کے شہر رے میں پیدا ہوئے۔ آپ نامور مسلمان عالم، طبیب، فلسفی، ماہر علم نجوم اور کیمیا دان تھے۔ جالینوس العرب کے لقب سے مشہور ہوئے۔ جوانی میں موسیقی کے دلدادہ رہے پھر ادب و فلسفہ، ریاضیات و نجوم اور کیمیا و طب میں خوب مہارت حاصل کی۔ دنیا کی تاریخ میں ان کا نام علم طب کے اماموں میں آتا ہے۔ پہلے کیمیا گری کے فن کو اس خیال سے اپنایا کہ کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کر کے بہت جلد امیر اور دولت مند بن جائیں گے۔ رائج طریقوں میں مختلف جڑی بوٹیوں کو ملا کر دھات کو آگ پر رکھنا پڑتا تھا اس لیے ایک دوا فروش سے دوستی ہو گئی اور وقت کے ساتھ طب کے علم میں دلچسپی لینے لگے۔
وہ طب کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بغداد چلے گئے اور طب کے رموز سیکھے۔ بغداد کے بڑے شفاخانہ کے کئی برس اعلیٰ افسر رہے۔ یہ عرصہ انہوں نے طبی تحقیقات اور تصنیف وتالیف میں گزارا۔ ان کی سب سے مشہور کتاب ’’الحاوی‘‘ اسی زمانے کی یاد گار ہے۔ اس کا پورا نام ’’کتاب الحاوی فی الطب‘‘ ہے۔ الحاوی دراصل ایک عظیم طبی انسائیکلو پیڈیا ہے۔ بغداد میں طب کی تعلیم کی تکمیل کے بعد رازی اپنے وطن رے واپس آئے اور وہاں نہ صرف مطب کا سلسلہ جاری کیا، بلکہ بغداد کے طرز پر شہر میں ایک بڑا بیمارستان بنایا۔ رازی نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں طب کے علاوہ فلسفہ، کیمیا، ہیئت، نجوم ، ریاضی اور علوم طبیعی پر مشتمل کتب شامل ہیں۔
ان میں سب سے اہم کتاب الحاوی سمجھی جاتی ہے۔ الحاوی زکریا رازی کی نہایت بلند پایہ اور ضخیم تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے امراض اور علاج کی ان تمام منتشر معلومات کو جمع کیا ہے جو متقدمین کی مختلف کتبِ طبیہ میں موجود تھیں۔ اس کتاب میں رازی نے ہر قول کا اس کے قائل کے نام کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب رازی نے اپنی حیات کے دوران خود مکمل نہیں کی بلکہ رازی کی وفات کے بعد ابن العمید و دیگر نے اس کتاب کے مسودات فراہم کر کے رازی کے شاگردوں کی مدد سے مرتب کرایا تھا۔ چنانچہ ابن ابی اصیبعہ نے ابوالخیر حسن بن سورا کے حوالے سے کہا ہے کہ ابن العمید رازی کی کتاب الحاوی کے وجود میں آنے کا سبب بنا۔ الحاوی کی تعریف نہ صرف علمائے مشرق بلکہ مغرب کے ماہرِ تاریخ و فن بھی کرتے ہیں۔
مغرب میں بھی یہ طب کی انتہائی بلند پایہ تالیف قرار دی گئی ہے۔ چونکہ الحاوی کو رازی کے شاگردوں وغیرہ نے اس کی وفات کے بعد اس کی غیر مرتب تحریروں اور شفاخانہ کے اندراجات کی روشنی میں تالیف کیا، اس لیے الحاوی میں عنوانات اور موضوعات کی درجہ بندی اور ترتیب کی خامیاں رہ گئی ہیں۔ یہ کتاب کافی ضخیم اور مبسوط ہونے سے اس کے چند ہی نسخے نقل کیے جا سکے۔ عربوں کے عروج کے زمانہ میں اس کے چند ہی نسخے تھے اور دولت مندوں کے کتب خانوں کی زینت بنے رہے۔ فرج بن سالم نے اس کا لاطینی میں ترجمہ کیا جو بعدازاں کئی مرتبہ شائع ہوا۔ ابو ریحان البیرونی کے قول کے مطابق محمد بن زکریا الرازی نے 26 اکتوبر 925ء کو 61 سال شمسی کی عمر میں رے میں وفات پائی۔ رازی کی تصانیف سترہویں صدی عیسوی تک یورپ میں بڑی مستند تصور کی جاتی تھیں، ان کے تراجم لاطینی میں کیے گئے اور یورپ کی درسگاہوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہیں۔
محمد ریاض
0 notes
Text
طبیب پیڈیا
طبیب پیڈیا لانچ ہو گئی تمام لوگوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ طبیب پیڈیا ویب سائٹ لانچ کر دی گئی ہے۔ طبیب پیڈیا ویب سائٹ جڑی بوٹیوں، حکیموں، دواخانوں اور پنسار سٹورز کی ایک بہت بڑی ڈائریکٹری بنے گی۔ جڑی بوٹیوں کا تعارف قدیم طب اور جدید طب جس میں سائنسی تحقیقات بھی ہیں کی روشنی میں پیش کی جارہی ہے۔ جڑی بوٹیوں کی اردو زبان میں ایسی کوئی کتاب نہیں جس میں ان کا تعارف سائنسی انداز میں بھی کرائے جائے۔ کس…
0 notes
Text
مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے
شاید ہی دنیا کا کوئی علم ایسا ہو جسے مسلمانوں نے حاصل نہ کیا ہو۔ اسی طرح سائنس کے میدان میں بھی مسلمانوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ گوکہ آج اہل یورپ کا دعویٰ ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی میں صرف ان کا حصہ ہے مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور اس کا اعتراف آج کی ترقی یافتہ دنیا نے بھی کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک انگریز مصنف اپنی کتاب ’’میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں لکھتا ہے :’’مسلمان عربوں نے سائنس کے شعبہ میں جو کردار ادا کیا وہ حیرت انگیز دریافتوں یا انقلابی نظریات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس ان کی مرہون منت ہے‘‘ایک دوسرا انگریز مصنف جان ولیم ڈریپرا اپنی کتاب ’’یورپ کی ذہنی ترقی‘‘ میں لکھتا ہے کہ مسلمان عربوں نے سائنس کے میدان میں جو ایجادات و اختراعات کیں وہ بعد میں یورپ کی ذہنی اور مادی ترقی کا باعث بنیں۔
آٹھویں صدی سے بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان سائنس پر چھائے رہے۔ جس وقت مسلمان سائنس میں نئی نئی ایجادات اور انکشافات کر رہے تھے‘ اس وقت سارا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں الخوارزمی‘ رازی‘ ابن الہیشم‘ الاہروی‘ بو علی سینا‘ البیرونی‘ عمر خیام‘ جابر بن حیان اور فارابی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے۔اگر یہ کہا جائے کہ دنیا ابھی تک البیرونی جیسی شخصیت پیش نہیں کر سکی تو غلط نہ ہو گا۔ جو بیک وقت ماہر طبیعات و ماہر لسانیات و ماہر ریاضیات‘ و ماہر اراضیات وجغرافیہ دان و ادیب و طبیب و مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور کیمیا دان بھی تھا۔ البیرونی نے ایک سو اسی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ البیرونی نے ثابت کیا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔
فلکیات پرالبیرونی نے کئی کتابیں تحریر کیں۔ دنیا آج بھی البیرونی کو بابائے فلکیات کے نام سے یاد کرتی ہے۔ بو علی سینا فلسفہ اور طب میں مشرق و مغرب کے امام مانے جاتے ہیں۔ ابن سینا نے تقریبا 100 کے قریب تصانیف چھوڑی ہیں۔ بو علی سینا کے بارے میں پروفیسر برائون کا کہنا ہے کہ جرمنی کی درس گاہوں میں آج بھی بوعلی سینا کی کاوشوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بو علی سینا اور محمد بن ذکریا الرازی کی تصاویر اب بھی پیرس یونیورسٹی کے شعبہ طب میں آویزاں ہیں۔ ساری دنیا آج بھی جابر بن حیان کو بابائے کیمیا مانتی ہے۔ جابر بن حیان نے شورے ، گندھک اور نمک کا تیزاب ایجاد کیا۔ واٹر پروف اور فائر پروف کاغذ بھی جابر بن حیان کی ایجاد ہے۔ روشنی پر دنیا کی سب سے پہلے جامع کتاب ’’المناظر‘‘ ابن الہیشم نے لکھی۔ پن ہول کیمرے کا اصول بھی پہلے انہوں نے دریافت کیا۔ ابن الہیشم بابائے بصریات بھی کہلاتے ہیں۔
مشہور مسلمان ماہر فلکیات و ریاضی دان اور شاعر عمر خیام نے ’’التاریخ الجلالی‘‘ کے نام سے ایک ایسا کلینڈر بنایا جو آج کل کے رائج کردہ گریگورین کلینڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ ابو القاسم الزاہروی آج بھی جراحت (سرجری) کے امام مانے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب ’’التصریف‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے زخم کو ٹانکا لگانے ‘ مثانے سے پتھری نکالنے اور جسم کے مختلف حصوں کی چیر پھاڑ کے متعلق بتایا۔ یہ کتاب کئی صدیوں تک یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی گئی۔ ابو ج��فر محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے فلکیات ‘ ریاضی اور جغرافیہ میں نام پیدا کیا۔ گنتی کا موجودہ رسم الخط ایجاد کیا اور گنتی میں صفر کا استعمال سب سے پہلے انہوں نے کیا۔ الجبرے کا علم معلوم کیا اور مثلث ایجاد کی۔ الجبرے پر ان کی مشہور کتاب ’’حساب الجبر و المقابلہ‘‘ اٹھارہویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہی۔ موسیقی میں ابتدائی سائنسی تحقیق ابو نصر محمد فارابی نے کی۔
چیچک کا ٹیکہ سب سے پہلے محمد بن زکریا نے ایجاد کیا۔ رازی دنیا کے پہلے طبیب تھے جنہوں نے چیچک اور خسرہ پر مکمل تحقیقات کیں اور چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا۔ اس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی موجود ہے۔ ابن یونس نے پنڈولیم کا اصول ایجاد کیا۔ ابو الحسن نامی مسلمان سائنسدان نے سب سے پہلے دوربین ایجاد کی۔ انسانی جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ نظریہ سب سے پہلے ابن النفیس نے پیش کیا۔ یہ ہیں مسلمان سائنس دانوں کے وہ روشن کارنامے جن سے اہل یورپ والے بھی روشنی لیتے رہے لیکن کئی مغربی مصنفوں اور مورخین نے اسے اپنے سائنس دانوں سے منسوب کر دیا۔ ستم تو یہ ہوا کہ خود ہمارے لکھنے والوں نے اسے انگریزوں اور دوسرے یورپی سائنس دانوں کا کارنامہ سمجھا اور لکھا۔ یہ سب کچھ مغربی مصنفین کی تحریروں پر اندھا اعتماد کرنے سے ہوا۔
شیخ عبدالحمید عابد
#Technology#Science#Muslims Scientists#Muslims#Jabir ibn Hayyan#Islam#Great Muslim Scientists#al-Khwarizmi#Al-Farabi
0 notes